10 مارچ 2015 - 17:45
داعش کی خیالی جنت، پروپیگنڈے میں صنف نازک کا استعمال

داعشی خلافت میں جتنا ان کا داخلہ آسان ہے، واپسی اتنی ہی مشکل ہے۔ شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والے گروپ ‘‘آبزرویٹری’’ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال اکتوبر اور دسمبر کے درمیان داعشی خلافت سے نکل کر باہر جانے کی کوشش کرنے والے 120 افراد کو داعشی جنگجووں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا کیونکہ داعش اپنی خلافت میں لوگوں کو آنے کی اجازت تو دیتی ہے مگر واپسی کے دروازے بند ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام اور عراق کے بعض علاقے پر قابض دہشتگرد گروہ دولت اسلامی ‘‘داعش’’ اپنی خود ساختہ خلافت کی بقا کے لئے جہاں طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے یرغمال بنائے گئے اپنے مخالفین کو نہایت سفاکیت سے قتل کر رہی ہے، وہیں صنف نازک کے ذریعے پوری دنیا کے نوجوانوں کو "داعشی خلافت" کا رُخ کرنے کے لئے سبز باغ دکھانے کا ایک نیا ڈھنگ اختیار کیا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق حال ہی میں انٹرنیٹ پر اقصٰی محمود (فرضی نام) نامی ایک داعشی دوشیزہ نے اپنے بلاگ پر ‘‘مہاجرہ کے شب و روز’’ کے عنوان سے لکھنا شروع کیا۔ اقصٰی نے جس انداز میں داعش کی وکالت شروع کی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کام اسے ایک منظم منصوبے کے تحت سونپا گیا ہے۔ وہ اپنے بلاگ میں داعشی خلافت کے زیرکنٹرول علاقوں میں امن وامان، خوشحالی اور بنیادی شہری سہولیات کا کچھ اس انداز میں ذکر کرتی ہے، جیسی سہولیات دنیا کے کسی ترقیاتی فلاحی ملک میں بھی ممکن نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر وہ لکھتی ہے کہ ‘‘ہم لوگ یہاں مکان کا کرایہ ادا نہیں کرتے کیونکہ ہمیں مفت رہائش میسر ہے۔ بجلی کے بل ادا نہیں کرتے اور نہ ہی پانی کا بل دینا پڑتا ہے۔ ہمیں ماہانہ بنیادوں پر خوراک مل جاتی ہے۔ اس میں تلی ہوئی اشیاء، ڈبوں میں بند خوراک، چاول اور انڈے سب ہماری دہلیز پر مفت پہنچ جاتے ہیں۔" خیال رہے کہ فرضی (اقصٰی) نام سے داعش کے ہاں شہرت پانے والی 20 سالہ دوشیزہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ نومبر 2013ء کو گلاسکو سے شام روانہ ہوئی تھی۔ وہ امریکہ کی ان 550 غیر ملکی خواتین میں شامل ہے جو شام میں داعش اور اس جیسے دوسرے گروپوں میں شامل ہوچکی ہیں۔

نوجوانوں کو خیالی جنت کے خواب دکھانا
مڈل ایسٹ کارنیکی ریسرچ سینٹر کی خاتون ڈائریکٹر لینا الخطیب نے بیروت میں عالمی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ داعش نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے ایک خیالی جنت کی فروخت کا وعدہ کرتے ہیں۔ جو ان کے تئیں تو مثالی ہی ہوتی ہے مگر ریاست کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ داعشی یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ انکی خلافت دنیا کی واحد مملکت ہے جہاں آپ کے لئے آنا جانا کوئی مشکل نہیں اور بغیر ویزے اور پاسپورٹ کے آپ سفر کرتے ہیں۔ اس ریاست میں پہنچ جانے کے بعد ہر شخص اہم ہوجاتا ہے، لیکن ساتھ ہی ہر شخص اپنی الگ سے شناخت بھی کھو دیتا ہے۔ داعشی دوشیزہ اقصٰی کا کہنا ہے کہ داعش میں شامل ہونے والے نوجوانوں کو علاج کی مفت سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ بچوں کی کفالت کی ذمہ داری داعش پر ہے، جو باقاعدہ فیملی الاونسز دیتی ہے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ خواتین پر پابندیوں کے بارے میں داعش کے حوالے سے عالمی تاثر غلط ہے۔

داعش نے خواتین کو گھروں میں بند نہیں کیا بلکہ ان کے لئے تدریس، طب اور نرسنگ میں خدمات انجام دینے کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ جو خواتین ان شعبوں میں کام نہیں کر رہی ہیں، وہ دعوت و تبلیغ میں مصروف ہیں اور داعش کے لئے نوجوانوں کو بھرتی کرتی ہیں۔ دفاتر میں خواتین کے لئے الگ سے کمرہ مختص ہوتا ہے، جہاں وہ آزادانہ کام کرتی ہیں۔ شادی سے قبل لڑکی اور لڑکے کو ایک دوسرے کو ایک نظر دیکھنے کی اجازت ہے۔ خواتین اپنا مہر خود مقرر کرتی ہیں۔ عموماً ان کا مہر زیورات یا سونا چاندی نہیں بلکہ کلاشنکوف ہوتی ہے۔ شادی کے موقع پر آتش بازی کی اجازت نہیں بلکہ نعرہ تکبیر کے ساتھ ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے۔ نوبیاہتا جوڑے ہنی مون منانے کے لئے دریائے فرات کے کنارے سیر کرتے ہیں، جہاں انہیں ہر ممکن سہولت اور آسائش فراہم کی جاتی ہے۔ اقصٰی نے اپنے بلاگ میں ایک سفید نقاب پوش دوشیزہ کی ایک باریش نوجوان کے ہمراہ لی گئی تصویر پوسٹ کی ہے، جس کے نیچے لکھا ہے کہ یہ دونوں میاں بیوی ہیں مگر شہادت نے دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی۔

داعش کے سبز باغات بذریعہ میڈیا
داعش کے زیر انتظام آن لائن شائع ہونے والے انگریزی جریدہ ’’دابق‘‘ میں بھی دنیا بھر کے نوجوانوں کو اسی خیالی ریاست کی طرف سفر کے مختلف طریقوں سے ترغیبات پیش کی جاتی ہیں۔ داعش کی جانب سے نوجوانوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ مالی مسائل کے حوالے سے فکر مند نہ ہوں۔ اُنہیں رہائش، خوراک اور خاندان کی تمام ضروریات مفت فراہم کی جائیں گی۔ پچھلے سال اگست میں داعش کے ترجمان ‘‘دابق’’ کا خصوصی شمارہ شائع کیا گیا، جس میں داعشی خلیفہ ابوبکر البغدادی کی جانب سے دنیا بھر سے نوجوانوں بالخصوص پیشہ ور افراد کو داعش میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جج صاحبان، انجینیر، فوجی، انتظامی امور کے ماہرین اور ڈاکٹرز داعش کی خلافت کا رخ کریں، جہاں ان کے لئے ہر طرح کے مواقع موجود ہیں۔

داعشی خلافت میں آنا آسان جانا مشکل
داعش کی جانب سے دنیا بھر کے نوجوانوں کو شام اور عراق کی ہجرت کی دعوت دی جاتی ہے، جب وہ داعشی خلافت میں داخل ہوجاتے ہیں تو وہاں سے ان کی واپسی مشکل ہوجاتی ہے۔ داعشی کارستانیوں پر مبنی ایک کتاب کے مصنف حسن حسن کا کہنا ہے کہ داعش دنیا بھر کے نوجوانوں کو اپنی خلافت کی کشش دلانے کے لئے انہیں سنہرے خواب دکھاتے اور ان کے سامنے ایک خیالی جنت کا تصور پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ بڑی تعداد میں نوجوان کھچے چلے آتے ہیں۔ داعشی خلافت میں جتنا ان کا داخلہ آسان ہے، واپسی اتنی ہی مشکل ہے۔

انسانی حقوق تنظیم کی رپورٹ
شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے گروپ ‘‘آبزرویٹری’’ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال اکتوبر اور دسمبر کے درمیان داعشی خلافت سے نکل کر باہر جانے کی کوشش کرنے والے 120 افراد کو داعشی جنگجووں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، کیونکہ داعش اپنی خلافت میں لوگوں کو آنے کی اجازت تو دیتی ہے مگر واپسی کے دروازے بند ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲